اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا: پاکستان کی اصغریہ آرگنائزیشن کے ایک وفد نے ابنا نیوز ایجنسی کے دفتر کا دورہ کیا اور رہبرِ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان کی صورتحال، عوامی جذبات اور مزاحمت کے عزم پر اپنے تاثرات بیان کیے۔ وفد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ رہبرِ شہید کے مشن کو ہر قیمت پر جاری رکھا جائے گا۔
ابنا کے دفتر میں وفد کا استقبال نمائندگان رونق علی اور زینب عسکری نے کیا، جہاں رہبرِ شہید کی شہادت کے بعد پاکستان میں پیدا ہونے والی صورتحال، عوامی ردعمل اور مزاحمتی فکر کے فروغ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
وفد کی رکن اور اصغریہ آرگنائزیشن کی نائب صدر سمیرا اصغری نے تنظیم کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ یہ ادارہ گزشتہ 58 برس سے پاکستان میں دینی و تعلیمی خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس کے تحت ملک بھر میں تقریباً 50 تعلیمی ادارے اور متعدد فلاحی و تبلیغی شعبے فعال ہیں، جبکہ مستحق طلبہ کی تعلیمی کفالت بھی کی جاتی ہے۔
انہوں نے رہبرِ شہید کی شہادت کی خبر کے بعد پاکستان کی فضا کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے یومِ عاشورا ہو۔ ہر طرف سیاہ لباس میں ملبوس لوگ غم و سوگ میں ڈوبے ہوئے تھے، جبکہ نوجوانوں میں انتقامِ خونِ شہید کا جذبہ موجزن تھا۔
سمیرا اصغری نے بتایا کہ تنظیم نے شہادت کے بعد متعدد تقریبات منعقد کیں اور بعد میں آنے والی عیدوں کو "عیدِ یادِ شہداء" کے عنوان سے منایا۔ ان کے مطابق نوجوان سرخ پٹیاں باندھ کر یہ نعرہ بلند کر رہے تھے: "خامنہ ای کوثر ہیں اور ان کا دشمن ابتر ہے۔"
انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید کی شہادت نے ایسے لاکھوں افراد کو بھی ان کی شخصیت سے روشناس کرایا جو پہلے انہیں نہیں جانتے تھے۔ ان کے بقول اگرچہ وہ پہلے ہی ایک انقلابی اور دوراندیش رہنما کے طور پر معروف تھے، تاہم ان کی شہادت نے بہت سے لوگوں کی آنکھیں کھول دیں اور آج اس شہید کا خون تمام اہلِ ایمان کی رگوں میں دوڑ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کی جدید ٹیکنالوجی، شدید دباؤ اور دہشت گردی کے باوجود رہبرِ شہید کبھی جھکے نہیں۔ ان کا استقامت بھرا کردار صرف ایران ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی آنے والی نسلوں کے لیے درس ہے۔ دشمن نے ایک شخصیت کو شہید کیا، مگر ایک فکر اور تحریک کو زندہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت میں ثابت قدم رہنے کے باعث آج بہت سے لوگ انہیں "شہیدِ قدس" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
سمیرا اصغری نے کہا کہ تاریخ اس عظیم رہنما کا ذکر سنہری حروف میں لکھے گی۔
گفتگو کے دوران تنظیم کے سابق رکن گل شیر علی مہدوی نے مشرق وسطیٰ میں مزاحمت کی حمایت کرنے والوں کو درپیش مشکلات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں برسوں سے مقیم بعض افراد نے صرف ایران کی حمایت میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ کرنے کی وجہ سے اپنی ملازمتیں، کاروبار اور بنیادی حقوق کھو دیے۔ ان کے مطابق بہت سے لوگ روزگار اور مستقبل کے خوف سے خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اس موقع پر ابنا کی نمائندہ زینب عسکری نے کہا کہ موجودہ دور نے حق اور باطل کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی ہے، اب غیر جانبداری کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کے مطابق ظلم کے خوف سے خاموش رہنے والا درحقیقت ظالم کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔
گفتگو کے دوران شرکاء نے اس حقیقت پر اتفاق کیا کہ حق کا راستہ ہمیشہ قربانی کا متقاضی ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کی قیمت اپنی جان بھی ہوتی ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ لوگوں کو حق کا راستہ اختیار کرنے پر کیسے آمادہ کیا جا سکتا ہے، گل شیر علی مہدوی نے کہا کہ امام حسینؑ نے کربلا میں یہ سبق صدیوں پہلے دے دیا تھا کہ انسان کو ہمیشہ حق اور باطل میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے، اور حق کی راہ کی قیمت جان کا نذرانہ بھی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے زہیر بن قینؓ اور حبیب بن مظاہرؓ کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ سچی محبت کا ثبوت عمل، وفاداری، استقامت اور عدل کے قیام کے لیے ہر قربانی دینے میں ہے۔
اس دوران ابنا کی نمائندہ زینب نے یہ اردو شعر بھی پڑھا:
جو حق کی خاطر جیتے ہیں، مرنے سے کہاں ڈرتے ہیں جگر
جب وقتِ شہادت آتا ہے دل سینوں میں رقصاں ہوتے ہیں
اجلاس میں شریک اقراء بتول نے تنظیم میں خواتین کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خواتین دور دراز دیہاتوں تک جا کر اسلام اور اہل بیتؑ کی تعلیمات عام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق آج خواتین معاشرے میں حق کی آواز پہنچانے اور دوسروں کے لیے عملی نمونہ بننے کی اہم ذمہ داری ادا کر سکتی ہیں۔
ملاقات کے اختتام پر شرکاء نے اجتماعی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہر قیمت پر حق کا ساتھ دینے، عدل کے قیام کے لیے ثابت قدم رہنے اور رہبرِ شہید کے مشن کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آپ کا تبصرہ